اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، انسانی حقوق کے کارکن سید احمد الوداعی نے بتایا کہ شیعہ علما کو عدالت میں ذاتی طور پر پیش کرنے کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شریک کیا گیا۔ ان میں شیخ محمد صنقور، شیخ محمود عالی، شیخ علی صدّدی اور شیخ ہانی البناء سمیت معروف علما شامل ہیں۔
الوداعی کے مطابق، مقدمے کی کارروائی خفیہ طور پر جج جاسم العجلان کی سربراہی میں جاری ہے، جبکہ اس دوران منصفانہ عدالتی کارروائی کے اصولوں کی خلاف ورزی، تشدد، دھمکانے اور اعترافات لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
حکومت مخالف کارکن عبدالغنی خنجر نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ علما کو صبح سات بجے ہی ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کے لیے تیار کرکے مقررہ مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، شیخ محمد صنقور نے اپنا اور دیگر علما کا دفاع خود کیا، تاہم جج العجلان نے مبینہ طور پر انہیں دفاع سے روکنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق، آل خلیفہ حکومت نے 50 سے زائد شیعہ علما، دینی مدارس کے اساتذہ اور جمعے کی نماز کے اماموں کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے علاوہ درجنوں شیعہ شہری بھی ایسے الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں رپورٹ میں من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔
ابنا کے مطابق، یہ گرفتاریاں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے اور اس کے خلاف گرفتار افراد کی مخالفت کے تناظر میں عمل میں آئیں۔ ان پر مبینہ طور پر دہشت گرد گروہ قائم کرنے، قومی وحدت کو نقصان پہنچانے، آئینی نظام تبدیل کرنے اور ولایتِ فقیہ کے نظریے کو فروغ دے کر ایران سے سیاسی وابستگی بڑھانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ملزمان نے عبادت گاہوں، مجالسِ عزا اور حسینیوں کو حکومت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔
آپ کا تبصرہ